7 اشعار

زندگی کا زخم بھر نہیں سکا

Zindagi ka zakhm bhar nahin saka

زندگی کا زخم بھر نہیں سکاجی رہا ہوں میں کہ مر نہیں سکا

بات کوئی تھی کہ بن نہیں سکیکام کوئی تھا کہ کر نہیں سکا

اب وہی طرف ہے میرے چو طرفجس طرف سے میں گزر نہیں سکا

پانیوں پہ کوئی پل تو تھا کہیںمیں ہی تھا کہ پاؤں دھر نہیں سکا

راستے رواں تھے میرے خون میںمیں کہیں قیام کر نہیں سکا

میں پہنچ گیا تھا ٹھیک وقت پراور وہ انتظار کر نہیں سکا

ایک عمر پر بھی آفتابؔ میںاپنے آپ سے مکر نہیں سکا

— آفتاب حسین