5 اشعار

ہر پھول ہے ہواؤں کے رخ پر کھلا ہوا

Har phool hai hawaaon ke rukh par khula hua

ہر پھول ہے ہواؤں کے رخ پر کھلا ہوااور میں ہوں اپنے خواب کے اندر کھلا ہوا

یہ میں جو رات دن نہیں اپنے حواس میںوہ باغ ہے ضرور کہیں پر کھلا ہوا

کچھ میرے سر کو بھی تھی مہک سی چڑھی ہوئیکچھ وہ بھی سامنے تھا برابر کھلا ہوا

خوابوں میں خوشبوئیں سی خیالوں میں رنگ سےیہ باغ ہو اگر کہیں باہر کھلا ہوا

کن منظروں میں مجھ کو مہکنا تھا آفتابؔکس ریگزار پر ہوں میں آ کر کھلا ہوا

— آفتاب حسین