5 اشعار

ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیں

Zara si der ko chamka tha woh sitaara kahin

ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیںٹھہر گیا ہے نظر میں وہی نظارہ کہیں

کہیں کو کھینچ رہی ہے کشش زمانے کیبلا رہا ہے تری آنکھ کا اشارہ کہیں

یہ لہر بہر جو ملتی ہے ہر طرف دل میںبدل گیا ہی نہ ہو زندگی کا دھارا کہیں

یہ سوچ کر بھی تو اس سے نباہ ہو نہ سکاکسی سے ہو بھی سکا ہے مرا گزارہ کہیں

رواں دواں رہو ہر چند آفتاب حسینؔدکھائی دیتا نہیں دور تک کنارہ کہیں

— آفتاب حسین