7 اشعار

ہم عشق بھی گاہ کر کے دیکھا

Hum ishq bhi gaah kar ke dekha

ہم عشق بھی گاہ کر کے دیکھااللہ پناہ کر کے دیکھا

اس شوخ کو دیکھنے گئے تھےحسرت سے اک آہ کر کے دیکھا

آنکھوں کا نہیں ہے ٹھیک کوئیسو دل کو گواہ کر کے دیکھا

وہ چشم نہ ہو سکی ہماریہرچند نباہ کر کے دیکھا

تعمیر ہوئی نہ دل کی دنیاخود کو بھی تباہ کر کے دیکھا

وہ کام کہ تھا نپٹ خرابیوہ کام بھی گاہ کر کے دیکھا

دنیا سے علاحدگی کا رستہدنیا سے نباہ کر کے دیکھا

— آفتاب حسین