9 اشعار

نشہ اپنا نہ خمار اپنا ہے

Nasha apna na khumar apna hai

نشہ اپنا نہ خمار اپنا ہےمے گساروں میں شمار اپنا ہے

اپنے ہی بوجھ تلے دب گیا ہوںاپنے ہی شانوں پہ بار اپنا ہے

دشت کوئی نہیں صحرا نہیں کوئییہ جو اڑتا ہے غبار اپنا ہے

محمل اپنا ہے نہ لیلیٰ اپنیکن قطاروں میں شمار اپنا ہے

پار کر جانا ہے یہ دشت وجودکوئی اس دشت کے پار اپنا ہے

ہم کہیں اپنی ہی دھن میں ہیں رواںاور کہیں اور مدار اپنا ہے

دل کی دیواروں سے سر پھوڑتے ہیںاور کس سے سروکار اپنا ہے

کیا لپکتا ہے شفق کا شعلہاس میں بھی کوئی شرار اپنا ہے

آفتابؔ ایک نہ مانے اپنیاور کہنے کو وہ یار اپنا ہے

— آفتاب حسین