6 اشعار

ہم جو اس خانہ خلوت میں پڑے رہتے ہیں

Hum jo is khana-e-khalwat mein pade rehte hain

ہم جو اس خانہ خلوت میں پڑے رہتے ہیںاپنے ہی ہونے کی حیرت میں پڑے رہتے ہیں

دل نے کیا کر لیا مصروف تمنا رہ کرہم یہی سوچ کے فرصت میں پڑے رہتے ہیں

کار دنیا کبھی نمٹا ہے کسی سے بھی کہیںآپ بے کار مصیبت میں پڑے رہتے ہیں

شعر کا نشہ بھی افیون سے کچھ کم تو نہیںکہ جو پڑ جاتے ہیں اس لت میں پڑے رہتے ہیں

یار لوگ آ کے سنا جاتے ہیں باتیں کیا کیااور ہم ہیں کہ مروت میں پڑے رہتے ہیں

اب تو پڑنے میں کوئی لطف نہ رہنے میں مزابس پڑے رہنے کی عادت میں پڑے رہتے ہیں

— آفتاب حسین