6 اشعار

طلب کچھ بھی نہیں اور تلملاہٹ ہوتی رہتی ہے

Talab kuch bhi nahin aur talmilahat hoti rehti hai

طلب کچھ بھی نہیں اور تلملاہٹ ہوتی رہتی ہےہوا ساکن ہے لیکن سرسراہٹ ہوتی رہتی ہے

کوئی آتا نہیں شاید کسی کو بھی نہیں آنامگر سارے میں جیسے کوئی آہٹ ہوتی رہتی ہے

طلب ہوتی ہے مطلب ہے کسی کی یاد آتی ہےبدن دکھتا ہے یعنی کسمساہٹ ہوتی رہتی ہے

کئی چولے بدل کر آتے ہیں بھوچال اس دل میںیہ وہ دھرتی ہے جو دن رات تلپٹ ہوتی رہتی ہے

سفر میں تو سکوں کا سائباں کیا سر پہ ہونا تھاچھپر کھٹ میں بھی رہ کر چھٹ پٹاہٹ ہوتی رہتی ہے

جہاں بھی رہتے ہیں ہم کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیںکھچاوٹ چلتی رہتی ہے لگاوٹ ہوتی رہتی ہے

— آفتاب حسین