7 اشعار

اک خواب سے گزر کر اک بے خودی سے ہو کر

Ik khwab se guzar kar ik be-khudi se ho kar

اک خواب سے گزر کر اک بے خودی سے ہو کرخود سے نکل گیا ہوں اس کی گلی سے ہو کر

زنجیر پاؤں میں تھی چکر تھا میرے سر میںچلتا چلا گیا ہوں کس زندگی سے ہو کر

اک درد میرے دل پر دستک سی دے رہا تھااک غم نکل رہا تھا میری خوشی سے ہو کر

ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں اندر سے کٹ گیا ہوںمیں کس جنوں میں پڑ کر کس آگہی سے ہو کر

سینے پہ پاؤں رکھ کر چلتی ہے میرے دنیاجیسے نکل رہے ہوں رستے مجھی سے ہو کر

لہرا رہے ہیں کیا کیا سایہ سے اپنے سر میںیہ ہم گزر رہے ہیں کس روشنی سے ہو کر

آنا ہمارا کیا ہے ہونا ہمارا کیا ہےلیکن ہم آ گئے ہیں تیری خوشی سے ہو کر

— آفتاب حسین