5 اشعار

نظر میں پھول کھلے ہیں لہو مہکتا ہے

Nazar mein phool khile hain lahu mehakta hai

نظر میں پھول کھلے ہیں لہو مہکتا ہےیہ کون آج مرے روبرو مہکتا ہے

خموشیوں کی ان اجڑی ہوئی منڈیروں پرکبھی کبھی وہ گل گفتگو مہکتا ہے

پھر آج دھیان میں ہے اس کا باغ باغ بدنکہ آج پھر مرے دل کا سبو مہکتا ہے

کسی خیال کی خوشبو اڑائے پھرتا ہےیہ خواب سا جو مرے چار سو مہکتا ہے

خزاں کی رت ہے مگر اب بھی اس کی یاد کا پھولکھلا ہوا ہے وہیں ہو بہ ہو مہکتا ہے

— آفتاب حسین