8 اشعار

اس کج دماغ سے نہیں ملنے کا تھا دماغ

Is kaj-dimagh se nahin milne ka tha dimagh

اس کج دماغ سے نہیں ملنے کا تھا دماغدل دل سے مل گیا نہ مگر مل سکا دماغ

ہفت آسماں کی سیر تھی اس اک نگاہ میںاک بار تو ہمارا بھی چکرا گیا دماغ

اپنی تو کچھ سمجھ میں نہ آیا یہ ہیر پھیراے بھائی اس حساب میں تو ہی لڑا دماغ

سفلہ سروں کی چلتی ہے ورنہ تو شہر میںکیا کیا پڑا ہوا ہے بڑے سے بڑا دماغ

رہتے زمین پر ہیں نظر آسماں پہ ہےپایہ ہے سرپھروں نے ترے دیکھ کیا دماغ

ایسا نشہ کہاں ہے شرابوں ورابوں میںدیکھے سے اک نظر اسے تر ہو گیا دماغ

کیا کان دھرئیے ناصح ناداں کی بات پرہے اس کی کھوپڑی میں کسی بیل کا دماغ

یہ کام صرف میرؔ سر سوختہ کا ہےاے دل نہ اس زمین میں ناحق جلا دماغ

— آفتاب حسین