5 اشعار

اس کھنڈر پر نئی بنیاد اٹھانا ہے مجھے

Is khandar par nayi bunyaad uthana hai mujhe

اس کھنڈر پر نئی بنیاد اٹھانا ہے مجھےآفتاب ایک نیا شہر بسانا ہے مجھے

ڈھونڈھتا رہتا ہوں ہر سمت مفر کی راہیںاور ہر راہ بھٹکنے کا بہانہ ہے مجھے

اک مرا دل ہے کہ قابو میں نہیں ہے میرےاور اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ہے مجھے

مجھ سے ہوتا نہیں جو کام کیے جاتا ہوںمجھ سے بنتی نہیں جو بات بنانا ہے مجھے

میں جو اس کار شب و روز سے کتراتا ہوںمجھے معلوم ہے سب چھوڑ کے جانا ہے مجھے

— آفتاب حسین