5 اشعار

کنار خواب سے دل کو نکال کر لے جائے

Kinaar-e-khwab se dil ko nikaal kar le jaaye

کنار خواب سے دل کو نکال کر لے جائےوہ لہر آئے کبھی اور اچھال کر لے جائے

بھرا ہوا ہے پیالہ مئے محبت سےکنیز دہر سے کہیے سنبھال کر لے جائے

ہمارے دل میں جو کچھ ہے فقط ہمارا نہیںجو جس کے کام کا ہو دیکھ بھال کر لے جائے

وہ چال وہ ہے کہ چکر میں ڈال دے سب کواور آنکھ ایسی کہ دل کو نکال کر لے جائے

ہم اپنے رنگ میں اس کو نہ رنگ پائے تو کیاہمیں وہ اپنے ہی سانچے میں ڈھال کر لے جائے

— آفتاب حسین