8 اشعار

نظر میں کوئی بحر بیکراں رکھا ہوا ہے

Nazar mein koi bahr-e-bekaran rakha hua hai

نظر میں کوئی بحر بیکراں رکھا ہوا ہےاور اپنے آپ کو میں نے رواں رکھا ہوا ہے

جہاں میں ہوں فقط میری صدائیں گونجتی ہیںمجھے کن گنبدوں کے درمیاں رکھا ہوا ہے

مری تیزی تو اب میری ضرورت بن گئی ہےمرے سر پر کوئی نار گراں رکھا ہوا ہے

میں اپنے آپ سے ہو کر گزرتا جا رہا ہوںکہ میرے راستے میں اک جہاں رکھا ہوا ہے

میں اپنے آپ میں ہوتا تو خود تک لوٹ آتاکسی خوشبو نے مجھ کو بے اماں رکھا ہوا ہے

کبھی احساس ہی اس آنکھ کو جا کر دلاؤںکہاں ہونا تھا مجھ کو اور کہاں رکھا ہوا ہے

جو سچ پوچھو اسی میں لطف ہے سارے کا ساراحقیقت میں جو رنگ داستاں رکھا ہوا ہے

بہت ہی مطمئن پھرتا ہوں لیکن جانتا ہوںمرے اندر کوئی آتش فشاں رکھا ہوا ہے

— آفتاب حسین