6 اشعار

نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہے

Nigah ke liye ek khwab bhi ghaneemat hai

نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہےوہ تیرگی ہے کہ یہ روشنی غنیمت ہے

چلو کہیں پہ تعلق کی کوئی شکل تو ہوکسی کے دل میں کسی کی کمی غنیمت ہے

کم و زیادہ پہ اصرار کیا کیا جائےہمارے دور میں اتنی سی بھی غنیمت ہے

بدل رہے ہیں زمانے کے رنگ کیا کیا دیکھنظر اٹھا کہ یہ نظارگی غنیمت ہے

نہ جانے وقت کی گردش دکھائے گی کیا رخگزر رہی ہے جو یہ زندگی غنیمت ہے

غم جہاں کے جھمیلوں میں آفتاب حسینؔخیال یار کی آسودگی غنیمت ہے

— آفتاب حسین