5 اشعار

کبھی جو راستہ ہموار کرنے لگتا ہوں

Kabhi jo raasta hamwaar karne lagta hoon

کبھی جو راستہ ہموار کرنے لگتا ہوںکچھ اور بھی اسے دشوار کرنے لگتا ہوں

مرے وجود کے اندر بھڑکنے لگتا ہےجب اس چراغ کا انکار کرنے لگتا ہوں

نظر میں لاتا ہوں اس چشم نیم باز کو میںاور اپنے آپ کو بیمار کرنے لگتا ہوں

جہاں بھی کوئی ذرا ہنس کے بات کرتا ہےمیں اپنے زخم نمودار کرنے لگتا ہوں

وہ شور ہوتا ہے خوابوں میں آفتابؔ حسینؔکہ خود کو نیند سے بیدار کرنے لگتا ہوں

— آفتاب حسین