6 اشعار

جدھر نگاہ کروں اک نیا سمندر ہے

Jidhar nigah karoon ek naya samandar hai

جدھر نگاہ کروں اک نیا سمندر ہےی خواب ہے کہ کوئی خواب کا سمندر ہے

نظر اٹھاؤں تو ہیبت سے کانپ جاتا ہوںوہ حسن ہے کہ بپھرتا ہوا سمندر ہے

میں اس کو آنکھ میں بھر لوں کہ اس میں ڈوب مروںیہ میرے سامنے گہرا کھلا سمندر ہے

بہا کے لے گئی رات اس کی بات بات مجھےسو میں ہوں اور کوئی گونجتا سمندر ہے

وہ یاد دل میں در آئی ہے اور کھلا مجھ پرسمندروں سے الجھتی ہوا سمندر ہے

جو پار اترنا ہی ٹھہرا تو کوئی فرق نہیںکہ میری راہ میں دنیا ہے یا سمندر ہے

— آفتاب حسین