5 اشعار

تلاش اپنی تھی ہم کو کہ جستجو تری تھی

Talaash apni thi hum ko ke justuju teri thi

تلاش اپنی تھی ہم کو کہ جستجو تری تھیمقابل آئنہ تھا شکل ہو بہ ہو تری تھی

خبر نہیں کوئی اٹھ کر کدھر کو دوڑ پڑاکہ دشت خواب میں آواز چار سو تری تھی

نہ جانے کون زمیں پر تھا رقص بسمل کابس اتنا یاد رہا تیغ بر گلو تری تھی

یہ بات سچ سہی قاتل ہمارے اندر تھامگر وہ چشم کہ تھی اپنے روبرو تری تھی

تجھے تو یہ بھی نہیں یاد بانوئے خوش پوشکہ کس کے خون سے چادر لہو لہو تری تھی

— آفتاب حسین