5 اشعار

روک سکتا تھا کسی کو میں مگر جانے دیا

Rok sakta tha kisi ko main magar jaane diya

روک سکتا تھا کسی کو میں مگر جانے دیامجھ میں کوئی مر رہا تھا میں نے مر جانے دیا

خواب تھا آنکھوں میں میری میں نے آنکھیں کھول دیںاور اس خوشبو کو سارے میں بکھر جانے دیا

رفتہ رفتہ دل کو دنیا کی ہوا راس آ گئیرفتہ رفتہ ہم نے اپنا زخم بھر جانے دیا

اور اب وہ لوگ میری راہ کی دیوار ہیںجن کو میں نے اپنے اندر سے گزر جانے دیا

شام کوئی دل سے ہو کر جا رہا تھا آفتابہم نے دیکھا اک نظر اور دیکھ کر جانے دیا

— آفتاب حسین