8 اشعار

کڑک رہا تھا فلک اور زمیں لرز رہی تھی

Kadak raha tha falak aur zameen laraz rahi thi

کڑک رہا تھا فلک اور زمیں لرز رہی تھیمگر وہ خواب کی دنیا نہیں لرز رھی تھی

وفور شوق تھا خوف خدا تھا یا کیا تھاخیال سجدہ سے میری جبیں لرز رھی تھی

اک ارتعاش سا جوڑے ہوئے تھا جسموں کومیں تھرتھرایا کہیں وہ کہیں لرز رہی تھی

نکل گیا تھا کہیں اور سرسرا کے وہ سانپذرا سا لمس تھا اور آستیں لرز رہی تھی

درخت تن کے کھڑا تھا قدم جمائے ہوئےمگر وہ شاخ کہ اپنے تئیں لرز رہی تھی

کنار چشم سے دریا رکا رکا ہوا تھامگر وہ موج کہ تھی تہ نشیں لرز رہی تھی

چراغ بجھتا چلا جا رہا تھا آنکھوں میںاور اس کی لو مرے دل میں کہیں لرز رہی تھی

سکوت مرگ کا عالم تھا آفتاب حسینؔدم وداع وہ چشم حسیں لرز رہی تھی

— آفتاب حسین