7 اشعار

کہاں مرنا تھا مجھے اور کدھر آتا ہوا ہوں

Kahan marna tha mujhe aur kidhar aata hua hoon

کہاں مرنا تھا مجھے اور کدھر آتا ہوا ہوںسر پٹکتا ہوا اپنے ہی سر آتا ہوا ہوں

اور کچھ دیر میں معدوم کی حد پر ہوں گادیکھ لو مجھ کو اگر میں نظر آتا ہوا ہوں

چلتا جاتا ہوں مسلسل کسی ویرانے کواور لگتا ہے مجھے جیسے گھر آتا ہوا ہوں

منظر خواب سمٹ آ مری آنکھوں میں کہ میںڈگمگاتا ہوا ہوں راہ پر آتا ہوا ہوں

سامنے کی کسی دیوار سے ٹکراتا ہوامیں کہیں اپنے ہی اندر اتر آتا ہوا ہوں

منتظر اب کہیں آنکھیں ہیں نہ چہرہ میرےجس طرف کوئی نہیں ہے ادھر آتا ہوا ہوں

واپسی کا کوئی رستہ ہی نہیں ہے لیکنحیف صد حیف کہ میں لوٹ کر آتا ہوا ہوں

— آفتاب حسین