8 اشعار

سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے یا سمجھتا ہوں

Samajh mein kuch nahi aata hai ya samajhta hoon

سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے یا سمجھتا ہوںسمجھ سکو تو بتاؤں کہ کیا سمجھتا ہوں

یہ کائنات یہ دنیا تو خیر ایک طرفخود اپنے آپ کو بھی دوسرا سمجھتا ہوں

لگا ہوا ہے تماشہ سا میرے ہونے کااور اس میں اصل تماشہ ہے کیا سمجھتا ہوں

میں چاہتا ہوں کوئی آ کے مجھ کو سمجھائےاگرچہ خود بھی سب اچھا برا سمجھتا ہوں

کبھی سمجھ نہیں پاتا تھا میں زباں تیریاور اب یہ دن کہ اشارہ ترا سمجھتا ہوں

کہاں قرار ملے میری بے قراری کوکہ منزلوں کو بھی منزل نما سمجھتا ہوں

کہاں پہنچنا تھا مجھ کو کدھر نکل آیامیں سوچتا تھا کہ سب سلسلہ سمجھتا ہوں

اور اب کھلا ہے کہ کچھ بھی نہ تھا سمجھنے کوتمام عمر سمجھتا رہا سمجھتا ہوں

— آفتاب حسین