5 اشعار

زمیں کہیں نہیں ہے آسماں کوئی نہیں ہے

Zameen kahin nahi hai aasmaan koi nahi hai

زمیں کہیں نہیں ہے آسماں کوئی نہیں ہےاب اس طرف کو رواں ہوں جہاں کوئی نہیں ہے

ترے کرم کی تو کچھ آس تھی فقیروں کوجو تو نہیں ہے تو اے مہرباں کوئی نہیں ہے

کوئی کہیں سے اچانک نکل بھی سکتا ہےادھر بھی دیکھتے رہیے جہاں کوئی نہیں ہے

وہ لوگ خواب ہوئے جن کے دل دھڑکتے تھےپکارتے ہو کسے اب یہاں کوئی نہیں ہے

گھرا ہوا ہوں بلاؤں میں آفتاب حسینؔکہیں نہیں کوئی جائے اماں کوئی نہیں ہے

— آفتاب حسین