7 اشعار

مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہے

Maqam-e-shauq se aage bhi ek rasta nikalta hai

مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہےکہیں کیا سلسلہ دل کا کہاں پر جا نکلتا ہے

مژہ تک آتا جاتا ہے بدن کا سب لہو کھنچ کرکبھی کیا اس طرح بھی یاد کا کانٹا نکلتا ہے

دکان دل بڑھاتے ہیں حساب بیش و کم کر لوہمارے نام پر جس جس کا بھی جتنا نکلتا ہے

ابھی ہے حسن میں حسن نظر کی کار فرمائیابھی سے کیا بتائیں ہم کہ وہ کیسا نکلتا ہے

میان شہر ہیں یا آئنوں کے روبرو ہیں ہمجسے بھی دیکھتے ہیں کچھ ہمیں جیسا نکلتا ہے

یہ دل کیوں ڈوب جاتا ہے اسی سے پوچھ لوں گا میںستارہ شام ہجراں کا ادھر بھی آ نکلتا ہے

دل مضطر وفا کے باب میں یہ جلد بازی کیاذرا رک جائیں اور دیکھیں نتیجہ کیا نکلتا ہے

— آفتاب حسین