6 اشعار

کوئی سودا بھی مرے سر میں نہ رکھا ہوا ہو

Koi sauda bhi mere sar mein na rakha hua ho

کوئی سودا بھی مرے سر میں نہ رکھا ہوا ہودل نے مجھ کو یوںہی چکر میں نہ رکھا ہوا ہو

نظر آتا ہے جو یہ آنکھ کا دھوکا تو نہیںمنظر اک اور ہی منظر میں نہ رکھا ہوا ہو

دیکھ وہ حسن دل افروز مگر دور سے دیکھکوئی شعلہ ہی گل تر میں نہ رکھا ہوا ہو

پوچھتا پھرتا ہوں میں جس کو زمانے بھر سےخواب سا وہ مرے بستر میں نہ رکھا ہوا ہو

دیکھ اے رنگ زمانہ مرے رستہ میں نہ آکل تجھے بھی کہیں ٹھوکر میں نہ رکھا ہوا ہو

یہ بھی ممکن ہے کہ گوہر مرے ہاتھ آ جائےاور امکاں مرے جوہر میں نہ رکھا ہوا ہو

— آفتاب حسین