9 اشعار

یقیں سے دور بہت دور اور گمان سے باہر

Yaqeen se door bahut door aur guman se bahar

یقیں سے دور بہت دور اور گمان سے باہرعجیب واقعہ تھا کوئی داستان سے باہر

وہی فضا کہ جہاں میں نے گرد اڑائی نہیں تھیوہی فلک کہ تھا اب تک مری اڑان سے باہر

میں اس جگہ ہوں جہاں پر مرا گماں بھی نہیں ہےسو ڈھونڈیئے مجھے جا کر مرے نشان سے باہر

چمک اٹھا تھا کوئی خواب سبز سنگ کے سر میںنکل رہا تھا کوئی پھول سا چٹان سے باہر

ستارہ سا کہ ترے دھیان سے الجھنے لگا تھااٹھا کے پھینک دیا ہم نے آسمان سے باہر

امیدواروں میں اک میں ہی تھا کہ اہل تھا اس کاسو کر دیا ہے مجھے اس نے امتحان سے باہر

کسی کو آنا نہیں کوئی بھی نہیں ہے جو آتانکل کے دیکھتے رہتے ہو کیا مکان سے باہر

میں اپنی دھوپ میں جلتا تھا اور دیکھ رہا تھاسلگ رہے تھے کئی سائے سائبان سے باہر

ہماری جان رکی ہے اسی کے دم سے لبوں پروہ ذائقہ جو پڑا رہ گیا زبان سے باہر

— آفتاب حسین