7 اشعار

کیا سے کیا کچھ نہیں ہے بنتا ہوا ہوتا ہوا

Kya se kya kuch nahi hai banta hua hota hua

کیا سے کیا کچھ نہیں ہے بنتا ہوا ہوتا ہوااور میں سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہوا

اب کے اک ایسے شکنجے میں پھنسی جان مریقید ہوتے ہوئے ہوتا ہوں رہا ہوتا ہوا

اس قدر اب بھی جو ہے مجھ میں یہ ہونے کی چمککوئی اس راہ سے گزرا تھا ذرا ہوتا ہوا

سانس چلتی تھی کہ تم تھے مرے اندر باہراور میں تھا بھی تو لگتا ہی نہ تھا ہوتا ہوا

سرنوشت اپنی تھی لگتا ہے نوشت اپنی بھیآگے آتا رہا قسمت کا لکھا ہوتا ہوا

اللہ اللہ تھا کیا عجز و نیاز اپنا بھیاب تو ہر بت نظر آتا ہے خدا ہوتا ہوا

دیکھ اے دیکھنے والے مری پت جھڑ پہ نہ جااندر اندر ہے مرا پیڑ ہرا ہوتا ہوا

— آفتاب حسین