7 اشعار

رخ بدلتے ہی چلے جائیے گا

Rukh badalte hi chale jaiyega

رخ بدلتے ہی چلے جائیے گاچال چلتے ہی چلے جائیے گا

سوچیے تو کبھی بہلانے کی بھییا بہلتے ہی چلے جائیے گا

دل کے رستے پہ ہے ایسی پھسلنکہ پھسلتے ہی چلے جائیے گا

مرحلہ رات کا سر کر لیجےدن نکلتے ہی چلے جائیے گا

ہاتھ بھی ڈالیے اس پر کہ یوںہیہاتھ ملتے ہی چلے جائیے گا

کیا ہوا ہیں جو سوا نیزے پہ آپابھی ڈھلتے ہی چلے جائیے گا

دو قدم پر ہے محبت کی گلیچلتے چلتے ہی چلے جائیے گا

— آفتاب حسین