5 اشعار

سرے سے ہو کوئی جیسے سرا ملایا ہوا

Sire se ho koi jaise saraah milaya hua

سرے سے ہو کوئی جیسے سرا ملایا ہواملا نہیں وہ مگر ہے ملا ملایا ہوا

دھنیں نکالتا رہتا ہوں اپنے مطلب کیاگرچہ تار ہے اک دوسرا ملایا ہوا

نکل تو آئے گی کچھ انقطاع کی صورتملائے رکھو مگر سلسلہ ملایا ہوا

سم حیات کو پیتا ہوں اور جیتا ہوںکچھ ایسا زہر میں ہے ذائقہ ملایا ہوا

لگی نہ کال ہماری ہی آفتاب حسینؔاگرچہ ہم نے بھی نمبر تو تھا ملایا ہوا

— آفتاب حسین