6 اشعار

نہیں کہ دل میں محبت زیادہ ہو گئی ہے

Nahin ke dil mein mohabbat ziyada ho gayi hai

نہیں کہ دل میں محبت زیادہ ہو گئی ہےہمیں اب اس کی ضرورت زیادہ ہو گئی ہے

خدا کا شکر بھی کرنے میں کم نہیں ہم لوگکہیں کہیں جو شکایت زیادہ ہو گئی ہے

کوئی بھی کام ادھر ٹھیک بیٹھتا ہی نہیںمیں کیا کروں مجھے فرصت زیادہ ہو گئی ہے

یہی نہیں کہ ہمیں اس نے حوصلہ دیا ہےہماری اپنی بھی ہمت زیادہ ہو گئی ہے

گزرتا جاتا ہوں نام و نشاں مٹاتا ہواجدھر جدھر مری شہرت زیادہ ہو گئی ہے

لگائیے کہیں دل اور آفتاب حسینؔسرائے خواب میں صحبت زیادہ ہو گئی ہے

— آفتاب حسین