8 اشعار

نیند میں چلتا ہوں سپنے کی طرف جاتا ہوں میں

Neend mein chalta hoon sapne ki taraf jata hoon main

نیند میں چلتا ہوں سپنے کی طرف جاتا ہوں میںدھند سے ہوتا دھندھلکے کی طرف جاتا ہوں میں

اپنے ہونے کی حقیقت کو بھلانے کے لیےکسی بسرے ہوئے قصے کی طرف جاتا ہوں میں

اس سمندر میں گزارہ نہیں ہونے والاکسی خاموش جزیرے کی طرف جاتا ہوں میں

صبح پھر سے اسی اڈے کو پلٹنا ہے مجھےشام ہوتی ہے ٹھکانے کی طرف جاتا ہوں میں

مجھ میں جیسے کوئی دیوار اٹھا دیتا ہےجب کبھی راہ پہ آنے کی طرف جاتا ہوں میں

خواہش مرگ کچھ ایسی ہے کہ بیٹھے بیٹھےدفعتاً خون خرابے کی طرف جاتا ہوں میں

خودکشی کرنے میں بھی صبر نہیں ہے یعنیذبح ہوتا نہیں جھٹکے کی طرف جاتا ہوں میں

جا کے دیکھ آیا ہوں کوئی نہیں کچھ بھی نہیں ہےاور اب صرف نہ جانے کی طرف جاتا ہوں میں

— آفتاب حسین