7 اشعار

قدم قدم یہاں درپیش تازہ مسئلہ ہے

Qadam qadam yahan darpesh taaza masla hai

قدم قدم یہاں درپیش تازہ مسئلہ ہےسو کس سے جا کے کہیں کیا ہمارا مسئلہ ہے

گلہ نہیں ہے تغافل کا اس نظر سے مگرتوجہ اتنی نہیں ہم پہ جتنا مسئلہ ہے

کرے گا کیا کوئی حل زندگی کے مسئلوں کاارے یہ زندگی خود اک طرح کا مسئلہ ہے

کبھی جو پوچھا ہمارا بھی حل نکل سکے گاتو مسکرا کے کہا اک ذرا سا مسئلہ ہے

سمجھ میں اپنی جو آئے تو کچھ بتایا بھی جائےکہ کیا معاملہ ہے اور کیسا مسئلہ ہے

کبھی ادھر کو بھی نکلو تو مل کے پورا کریںبہت دنوں سے اک آدھا ادھورا مسئلہ ہے

یہاں بھی ٹوٹتے ہیں سر پہ آسماں کیا کیانئی زمین ہے لیکن پرانا مسئلہ ہے

— آفتاب حسین