8 اشعار

قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے

Qadam qadam pe kisi imtehan ki zad mein hai

قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہےزمین اب بھی کہیں آسماں کی زد میں ہے

ہر ایک گام الجھتا ہوں اپنے آپ سے میںوہ تیر ہوں جو خود اپنی کماں کی زد میں ہے

وہ بحر ہوں جو خود اپنے کنارے چاٹتا ہےوہ لہر ہوں کہ جو سیل رواں کی زد میں ہے

میں اپنی ذات پہ اصرار کر رہا ہوں مگریقیں کا کھیل مسلسل گماں کی زد میں ہے

مرے وجود کے اندر اترتا جاتا ہےہے کوئی زہر جو میری زباں کی زد میں ہے

لگی ہوئی ہے نظر آنے والے منظر پرمگر یہ دل کہ ابھی رفتگاں کی زد میں ہے

یہی نہیں کہ فقط رزق خواب بند ہواگدائے کوئے ہنر بھی سگاں کی زد میں ہے

افق افق جو مرے نور کا غبار اڑایہ کائنات مرے خاکداں کی زد میں ہے

— آفتاب حسین