5 اشعار

وہ سر سے پاؤں تک ہے غضب سے بھرا ہوا

Woh sar se paaon tak hai ghazab se bhara hua

وہ سر سے پاؤں تک ہے غضب سے بھرا ہوامیں بھی ہوں آج جوش طلب سے بھرا ہوا

شورش مرے دماغ میں بھی کوئی کم نہیںیہ شہر بھی ہے شور و شغب سے بھرا ہوا

ہاں اے ہوائے ہجر ہمیں کچھ خبر نہیںیہ شیشۂ نشاط ہے جب سے بھرا ہوا

ملتا ہے آدمی ہی مجھے ہر مقام پراور میں ہوں آدمی کی طلب سے بھرا ہوا

ٹکراؤ جا کے صبح کے ساغر سے آفتابؔدل کا یہ جام وعدۂ شب سے بھرا ہوا

— آفتاب حسین