5 اشعار

یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئے

Yeh jabr bhi hai bahut ikhtiyaar karte hue

یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئےگزر رہی ہے ترا انتظار کرتے ہوئے

کلی کھلی تو اسی خوش سخن کی یاد آئیصبا بھی اب کے چلی سوگوار کرتے ہوئے

ترے بدن کے گلستاں کی یاد آتی ہےخود اپنی ذات کے صحرا کو پار کرتے ہوئے

یہ دل کی راہ چمکتی تھی آئنے کی طرحگزر گیا وہ اسے بھی غبار کرتے ہوئے

خود اپنے ہاتھ کی ہیبت سے کانپ جاتا ہوںکبھی کبھی کسی دشمن پہ وار کرتے ہوئے

— آفتاب حسین