8 اشعار

رنگ سے اڑتے ہیں اور روشنی آواز میں ہے

Rang se udte hain aur roshni awaz mein hai

رنگ سے اڑتے ہیں اور روشنی آواز میں ہےتیری آواز بھی شامل مری آواز میں ہے

ہائے وہ حسن کہ کھولے سے بھی کھلنے کا نہیںکبھی تصویر کی صورت کبھی آواز میں ہے

دل کے خاموش سمندر میں اٹھی پھر کوئی لہراور ایک شکل سی بنتی ہوئی آواز میں ہے

بات کرنے کو زباں کھولی جب اس نے تو کھلااپنا اپنا سا کوئی اجنبی آواز میں ہے

نبض ایام کی اس لرزش پیہم کا سببیا مرے ساز میں ہے یا تری آواز میں ہے

کبھی ہاتھ آئے تو چھو کر بھی اسے دیکھا جائےکوئی خوشبو ہے کہ اڑتی ہوئی آواز میں ہے

بات کرتا ہوں جھجھکتا ہوں ٹھہر جاتا ہوںشبہ سا ہے کہ کمی کچھ مری آواز میں ہے

ایک ہی بات ہے دیکھو مجھے یا مجھ کو سنومیرا بکھراؤ مری گونجتی آواز میں ہے

— آفتاب حسین