5 اشعار

سخن کی گرمئ بازار سے زیادہ ہے

Sukhan ki garmi-e-bazaar se ziyada hai

سخن کی گرمئ بازار سے زیادہ ہےجو کہہ رہا ہوں وہ اظہار سے زیادہ ہے

لگے ہوئے ہیں جو یہ ڈھیر سے خیالوں کےیہ مال قحط خریدار سے زیادا ہے

میں چل رہا ہوں مسلسل مگر یہ سوچتا ہوںکہ راستہ مری رفتار سے زیادہ ہے

اتر گئی مرے سر سے عذاب کی صورتوہ آگہی کہ جو آزار سے زیادہ ہے

کچھ اس سے اور تعلق تو کیا بنا ہو گابس اس قدر ہے کہ دیدار سے زیادہ ہے

— آفتاب حسین