6 اشعار

طلسم خانۂ صوت و صدا میں کچھ بھی نہ تھا

Tilism-khana-e-saut o sada mein kuch bhi na tha

طلسم خانۂ صوت و صدا میں کچھ بھی نہ تھافقط ہوا تھی وہاں اور ہوا میں کچھ بھی نہ تھا

خود اپنے آپ سے ٹکرا کے لوٹتی تھی نظرنگاہ اٹھی تو حیرت سرا میں کچھ بھی نہ تھا

ہم اس کے پاس پہنچ کر تہی تمنا تھےتھکن تھی اور دل بے مدعا میں کچھ بھی نہ تھا

خلیج تھی کبھی مابین پھر خلا تھا فقطخلیج میں تو خلا تھا خلا میں کچھ بھی نہ تھا

وہ ایک نام کہ مثل دعا تھا اپنے لیےہمارے نام کا اس کی دعا میں کچھ بھی نہ تھا

عذاب و مہر سے آگے نکل گیا ہوں میںکہ اس کشاکش بیم و رجا میں کچھ بھی نہ تھا

— آفتاب حسین