7 اشعار

شام تھی اور کوئی گھر سے نکلتا ہوا تھا

Shaam thi aur koi ghar se nikalta hua tha

شام تھی اور کوئی گھر سے نکلتا ہوا تھامنظر اک اور ہی منظر سے نکلتا ہوا تھا

سامنے بیٹھا تھا وہ آتشیں رخسار لیےاور دھواں تھا کہ مرے سر سے نکلتا ہوا تھا

مجھ میں بھی جیسے کوئی سنسنی سی دوڑتی تھیاور وہ بھی کہیں اندر سے نکلتا ہوا تھا

رات جس وقت چراغوں کی لویں کانپتی تھیںکوئی سایہ مرے بستر سے نکلتا ہوا تھا

جانے کس لمس کی لذت تھی مرے ہاتھوں میںایک پیکر تھا کہ پتھر سے نکلتا ہوا تھا

میرے خوابوں کے اندھیروں سے الجھنے کے لیےاک ستارہ تھا کہ محور سے نکلتا ہوا تھا

کوئی لمحہ تھا کہ جو تھام رہا تھا مجھ کواور میں وقت کے چکر سے نکلتا ہوا تھا

— آفتاب حسین