6 اشعار

ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا

ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا

ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا

«ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ہر اِک رہ رو، ہر اِک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا​اَنا کے نام پر ہر شخص کو تسخِیر کیا کرنا​

​خبر اُس گھر کی بھی لینی ہے، جس کی چھت شکستہ ہے​فقط خوابوں میں اِک قصرِ حسیں تعمیر کیا کرنا​

​بہت کافی ہے، سُن لیتی ہیں دیواریں مرے دُکھڑے​سُنا کر حالِ دل ہر شخص کو دِلگیر کیا کرنا​

​ہمیشہ جس کو عزت دی، سر آنکھوں پر بٹھایا ہے​ذرا سی بات پر اب اُس کو بےتوقیر کیا کرنا​

​اِسی کٹیا میں رہنا ہے، ابھی کُھل جائیں گی آنکھیں​تو پھر لے کر تمہارے خواب کی جاگیر کیا کرنا​

​وہی رکھنی ہے آشفتہ سَری جو اُن کی قسمت تھی​وفا میں کام کوئی بھی خلافِ میر کیا کرنا​

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں