6 اشعار

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا

Zakhmon ka doshala pehna dhoop ko sar par taan liya

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا

«زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیاکیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیا

نقش دیے تری آشاؤں کو عکس دیے ترے سپنوں کولیکن دیکھ ہماری حالت وقت نے کیا تاوان لیا

اشکوں میں ہم گوندھ چکے تھے اس کے لمس کی خوشبو کوموم کے پھول بنانے بیٹھے لیکن دھوپ نے آن لیا

برسوں بعد ہمیں دیکھا تو پہروں اس نے بات نہ کیکچھ تو گرد سفر سے بھانپا کچھ آنکھوں سے جان لیا

آنکھ پہ ہات دھرے پھرتے تھے لیکن شہر کے لوگوں نےاس کی باتیں چھیڑ کے ہم کو لہجے سے پہچان لیا

سورج سورج کھیل رہے تھے ساجدؔ ہم کل اس کے ساتھاک اک قوس قزح سے گزرے اک اک بادل چھان لیا

— اعتبارساجد