6 اشعار

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

Ye barson ka ta'alluq tod dena chahte hain ham

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

«یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے حسن شبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہماب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

کسی دہلیز پر آنکھوں کے یہ روشن دیئے رکھ کرضمیر صبح کو جھنجھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

جدھر ہم جا رہے ہیں اس طرف ٹوٹا ہوا پل ہےیہ باگیں اس سے پہلے موڑ دینا چاہتے ہیں ہم

یہ نوبت کل جو آنی ہے تو شرمندہ نہیں ہوں گےمراسم احتیاطاً توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

عجب دیوانگی ہے جس کے ہم سائے میں بیٹھے ہیںاسی دیوار سے سر پھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

تعلق کرچیوں کی شکل میں بکھرا تو ہے پھر بھیشکستہ آئینوں کو جوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں