6 اشعار

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے

Tark-e-ta'alluq kar to chuke hain ek imkaan abhi baaqi hai

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے

«ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہےایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہے

شاید اس نے ہنسی ہنسی میں ترک وفا کا ذکر کیا ہویونہی سی اک خوش فہمی ہے اطمینان ابھی باقی ہے

راتیں اس کے ہجر میں اب بھی نزع کے عالم میں کٹتی ہیںدل میں ویسی ہی وحشت ہے تن میں جان ابھی باقی ہے

بچپن کے اس گھر کے سارے کمرے ملیا میٹ ہوئےجس میں ہم کھیلا کرتے تھے وہ دالان ابھی باقی ہے

دیئے منڈیر پہ رکھ آتے ہیں ہم ہر شام نہ جانے کیوںشاید اس کے لوٹ آنے کا کچھ امکان ابھی باقی ہے

ایک عدالت اور ہے جس میں ہم تم اک دن حاضر ہوں گےفیصلہ سن کر خوش مت ہونا اک میزان ابھی باقی ہے

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں