7 اشعار

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

Aankhen mujhe talwon se woh milne nahin dete

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

«آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتےسچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے

کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصلتم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولےکیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنادشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقتہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانعپنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں