آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
کلام: اکبر اللہ آبادی
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے
خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتےسچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے
خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتےسچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے