8 اشعار

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا

Agar dil waqif-e-nairangi-e-tab'-e-sanam hota

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا

«اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتازمانہ کی دو رنگی کا اسے ہرگز نہ غم ہوتا

یہ پابند مصیبت دل کے ہاتھوں ہم تو رہتے ہیںنہیں تو چین سے کٹتی نہ دل ہوتا نہ غم ہوتا

انہیں کی ہے وفائی کا یہ ہے آٹھوں پہر صدمہوہی ہوتے جو قابو میں تو پھر کاہے کو غم ہوتا

لب و چشم صنم گر دیکھنے پاتے کہیں شاعرکوئی شیریں سخن ہوتا کوئی جادو رقم ہوتا

بہت اچھا ہوا آئے نہ وہ میری عیادت کوجو وہ آتے تو غیر آتے جو غیر آتے تو غم ہوتا

اگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کیمجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا

لئے جاتا ہے جوش شوق ہم کو راہ الفت میںنہیں تو ضعف سے دشوار چلنا دو قدم ہوتا

نہ رہنے پائے دیواروں میں روزن شکر ہے ورنہتمہیں تو دل لگی ہوتی غریبوں پر ستم ہوتا

— اکبر اللہ آبادی