9 اشعار

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے

Apne pehlu se woh ghairon ko utha hi na sake

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے

«اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے خواجہ اشرف نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکےان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے

ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیطآپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے

دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذورشیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے

عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیبدل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے

ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دمآپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے

عشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرحتاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے

دام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہےجو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے

مظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔبے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے

ایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔکہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں