6 اشعار

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے

Apni girah se kuch na mujhe aap deejiye

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے

«اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئےاخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹابہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے

چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیںاخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے

دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کوطول شب فراق کو تو ناپ دیجئے

سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی باتانجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے

اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیازر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے

— اکبر اللہ آبادی