7 اشعار

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

Bahut raha hai kabhi lutf-e-yaar hum par bhi

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

«بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھیگزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی

عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھییہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی

بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پرہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی

عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم رازتو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی

خطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباںتو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی

ہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضبکہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی

ہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔحرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی

— اکبر اللہ آبادی