7 اشعار

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے

Be-takalluf bosa-e-zulf challe pa leejiye

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے

«بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئےنقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے

دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپاس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے

پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہووحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے

غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریکمجھ سے کہتے ہیں اگر کچھ بھوک ہو کھا لیجئے

خوش نما چیزیں ہیں بازار جہاں میں بے شمارایک نقد دل سے یارب مول کیا کیا لیجئے

کشتہ آخر آتش فرقت سے ہونا ہے مجھےاور چندے صورت سیماب تڑپا لیجئے

فصل گل کے آتے ہی اکبرؔ ہوئے بے ہوش آپکھولیے آنکھوں کو صاحب جام صہبا لیجئے

— اکبر اللہ آبادی