7 اشعار

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

Bithai jaayengi parde mein bibiyaan kab tak

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

«بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تکبنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک

حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہیتو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک

میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگرمیاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک

طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میںیہ غیرتیں یہ حرارت یہ گرمیاں کب تک

عوام باندھ لیں دوہر تو تھرڈ وانٹر میںسکنڈ‌ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک

جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیسچھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک

جناب حضرت اکبرؔ ہیں حامئ پردہمگر وہ کب تک اور ان کی رباعیاں کب تک

— اکبر اللہ آبادی